فهرس الكتاب

الصفحة 1317 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

جو اشیاء خاص کر بتوں پر چڑ ھائی جاتی ہیں اوردوکاندار کو معلوم ہیں کہ یہ اشیاء بت پر چڑھائی جائیں گی اس کا فروخت کرنا شروع میں کیسا ہے ؟ اور فروخت کرنے والا کس گناہ کا مرتب ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اگر وہ چیز ایسی ہے جو سوائے چڑہاوے کے کھانے پینے میں بھی آسکتی ہے جیسے حلوہ وغیرہ تو اس چیز کا بیچنا جائز ہےچاہیے چڑھانے والا اس کو کسی بت پر چڑھاوے ۔ اور اگر ایسی ہے کہ خاص شرک میں کام آتی ہے تو اس کا فروخت کرنا جائز نہیں وَلَا تَعَاوَنُوا۟ عَلَی ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَ‌ٰنِ (اہلحدیث امرتسر نمبر۱۳، ۱۶دسمبر ۱۹۳۲ء؁)

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 407

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت