فهرس الكتاب

الصفحة 823 من 2029

سرمہ لگانے کی سنیت

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

سرمہ لگانے میں سنت کیاہے ؟ ۔ ( اخوکم:عطا ءاللہ )

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

انس ﷜سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: '' ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی دائیں آنکھ میں تین مرتبہ اور بائیں آنکھ میں دو مر تبہ سرمہ لگایا کر تے تھے '' ۔ طبقا ت ابن سعد ( 1؍ 484 ) اخلا ق النبی لا بی الشیخ ص ( 183 ) طبرانی کبیر ( 3؍199 ) بزار ، المجمع ( 5؍ 95 ) الصحیحہ ( 2؍ 214) رقم ( 633) اور حد یث شو ائد کے سا تھ صحیح ہے ۔

اور امام تر مذی الشما ئل (4) میں ابن عبا س ﷜ سے روایت کرتےہیں:وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرما یا:

( اثمد کا سر مہ استعما ل کر یہ نظر تیز کر تا اور پلکیں اگاتا ہے )

اور وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سرمہ دانی تھی جس سے ہر رات تین اس آنکھ میں لگا تے تھے ۔ کتا ب اللبا س برقم ( 1827) اور یہ المشکا ۃ میں بر قم ( 4472) ( 2؍ 383 9 ہے ۔

لیکن ان کاکہنا ہے: (( وزعم النبی صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر ابن عبا س ﷜ کا قول ہےتو یہ حدیث متصل ہےاو ر اگر ترمذی کے استاد محمد بن حمید کا ہے تو حد یث معضل ہے اس لئے شیخ نے ضعیف التر مذی میں کہا ہے: صحیح ہےسوائے اسکے کہنے '' زعم '' کے جیسے مختصر الشما ئل رقم (42) میں ہے ۔

مراجعہ کریں تحفةالحوذی ( 3/ 60 )

اور جمعہ کی رات کو سر مہ لگا نے کیلئے خا ص کرنا مسنون نہیں جیسے کہ بعض کا خیا ل ہے۔ بلکہ جب بھی ضر ورت ہو سر مہ لگائے ، رات ہو یا دن ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص438

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت