فهرس الكتاب

الصفحة 670 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

بغل و زیر ناف بال صاف کرنے کے لیے کتنے دن ہیں ان کی تعداد مقرر نہیں ہے اس بارے میں وضاحت کردیں کہ زیادہ سے زیادہ کتنے دن ہیں؟ )عابد اللہ(

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

صحیح مسلم میں ہے: (( عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: وُقِّتَ لَنَافِیْ قَصِّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِیْمِ الْأَظْفَارِ ، وَنَتْفِ الإِبِطِ ، وَحَلْقِ الْعَانَۃِ أَنْ لاَ نَتْرُکَ أَکْثَرَ مِنْ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً۔1(۱،۱۲۹) قَالَ النَّوَوِی فِی الشَّرْحِ: وَقَدْ جَائَ فِیْ غَیْرِ صَحِیْحِ مُسْلِمٍ: وَقَّتَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم۔ 2۱ھ (

['' أنس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہے آپ نے فرمایا ہمارے لیے وقت مقرر کیا گیا ہے مونچھیں کاٹنے میں اور ناخن کاٹنے میں اور بغلوں کے بال اکھاڑنے میں اور زیر ناف بال صاف کرنے میں کہ ہم چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں اور امام نووی نے شرح میں فرمایا ہے کہ صحیح مسلم کے علاوہ یہ لفظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے مقرر فرمایا۔ '' ] ۲۹، ۳، ۱۴۲۴ھ

1 مسلم،کتاب الطہارۃ،باب خصائل الفطرۃ

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 760

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت