فهرس الكتاب

الصفحة 398 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا مردکے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی بالغ بیٹی کو خواہ وہ شادی شدہ ہویا غیر شادی شدہ بوسہ دے اورخواہ بوسہ رخسارپر دے یہ منہ پر اورجب بیٹی اس طرح بوسہ دے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

مردکے لئے اپنی بیٹی کو بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں خواہ بڑی ہویا چھوٹی ،جب کہ شہوت کے بغیر ہواوراگربیٹی بڑی ہو توبوسہ رخسار پرہونا چاہئے منہ پر نہیں کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے یہ ثابت ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو رخسار پر بوسہ دیا۔منہ پر بوسہ چونکہ شہوت کی تحریک کا سبب بنتا ہے ،اس لئے اسے ترک کردینا افضل اورلائق احتیاط ہے ،اسی طرح بیٹی کو بھی چاہئے کہ وہ کسی شہوانی جزبے کے بغیر اپنے باپ کے ناک یا سر پر بوسہ دے،شہوت کے ساتھ بوسہ سب کےلئے حرام ہےتاکہ فتنہ انگیزی اورفحاشی کے ذرائع کا سد باب ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص367

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت