فهرس الكتاب

الصفحة 78 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

گھریلو ڈرائیور کا گھر کی عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ اختلاط اور انہیں بازاروں یا سکولوں میں لے جانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( لایخلون أحدکم بامرأة فإن الشیطان ثالثہما ) ) ( جامع الترمذی)

'' کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہیں کرتا مگر ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔''

خلوت عام ہے خواہ گھر میں ہو یا گاڑی میں ، بازار میں ہو یا دوکان میں کیونکہ خلوت میں اس بات کا خطرہ ہوتا ہے کہ ان کی گفتگو ایسے امور کے بارے میں ہو جو جنسی جذبات بھڑکانے والے ہوں، بعض مرد اور عورتیں اگرچہ درع و تقویٰ، اللہ تعالیٰ کے خوف اور گناہ سے نفرت کے اخلاق کریمانہ سے متصف ہوتے ہیں۔ لیکن شیطان ان میں وسوسہ پیدا کر کے گناہ کر کے بہت چھوٹا کر کے پیش کرتا اور حیلوں بہانوں کے دروازے کھول دیتا ہے لہٰذا حفاظت و سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ مردوں اور عورتوں کے اختلاط سے اجتناب برتا جائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص103

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت