فهرس الكتاب

الصفحة 1405 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک گاڑی بکری سے ٹکرا گئی جس سے اس کی کمر اور ٹانگ ٹوٹ گئی یہ ابھی زندہ تھی اور لڑکھڑا کر چل بھی رہی تھی کہ میں نے اسے جلدی سے ذبح کر لیا مگر ذبح کرنے اور کھال اتار لینے کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ یہ بکری حرام ہے تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ براہ کرم بتائیں کہ اس ذبیحہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اگر امر واقع اسی طرح ہے جس طرح آپ نے ذکر کیا ہے تو یہ ذبیحہ حلال ہے کیونکہ یہ بکری ابھی زندہ تھی جب آپ نے اسے ذبح کیا لہٰذا ارشاد باری تعالیٰ

{حُرِّ‌مَت عَلَیکُمُ المَیتَةُ وَالدَّمُ وَما أَکَلَ السَّبُعُ إِلّا ما ذَکَّیتُم ...3} ... سورة المائدة

کی وجہ سے یہ حلال ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص478

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت