السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
معین نفع کے ساتھ بینکوں میں سرمایہ رکھنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
معین نفع کے ساتھ بینکوں میں سرمایہ رکھنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ عقد ربا پر مشتمل ہے اور ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَأَحَلَّ اللَّہُ البَیعَ وَحَرَّمَ الرِّبوٰا...275} ... سورة البقرة
"سودے کو اللہ نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام"
اور فرمایا:
{یـٰأَیُّہَا الَّذینَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَذَروا ما بَقِیَ مِنَ الرِّبوٰا إِن کُنتُم مُؤمِنینَ 278} فَإِن لَم تَفعَلوا فَأذَنوا بِحَربٍ مِنَ اللَّہِ وَرَسولِہِ ۖ وَإِن تُبتُم فَلَکُم رُءوسُ أَموٰلِکُم لا تَظلِمونَ وَلا تُظلَمونَ {279} ... سورة البقرة
"اے مومنو! اللہ سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو، اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہو جاؤ (کہ تم) اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کے لیے (تیار ہوتے ہو) ، اور اگر توبہ کر لو گے (اور سود چھوڑ دو گے تو تم کو اپنی اصلی رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور نہ تمہارا نقصان۔"
بینکوں میں سرمایہ رکھنے والا اپنے سرمایہ پر جو نفع حاصل کرتا ہے، اس میں کوئی برکت نہیں ہوتی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{یَمحَقُ اللَّہُ الرِّبوٰا وَیُربِی الصَّدَقـٰتِ...276} ... سورة البقرة
"اللہ سود کو نابود (یعنی بے برکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے۔"
بینکوں سے معاملہ کی یہ صورت ربا الفضل بھی ہے اور ربا النسیئہ بھی کیونکہ بینک میں رقم جمع کرانے والا معلوم مدت اور معلوم نفع کی شرط کے ساتھ رقم جمع کراتا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فتاویٰ اسلامیہ
ج2 ص514
فتوی کمیٹی