السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں جو امام حد شرعی یعنی مشت سے کم داڑھی رکھتا ہو اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں ؟ خواہ فرض ہو یا سنت ؟ حافظ غلام رسول فیضی تحصیل وضلع بھکر
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
اس سوال میں مشت برابر داڑھی کومقدار شرعی قرار دیا گیا ہے حالانکہ شرع میں داڑھی کی کوئی سی تحدید بھی وارد نہیں بس حکم ہے {اَعْفُوا اللِّحٰی} داڑھی کٹانے یا منڈانے والے کو نمازوں کا امام بنانے یا نہ بنانے کے متعلق قرآن مجید کی کوئی آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث فی الوقت مجھے معلوم نہیں ۔ ۲۳رمضان المبارک ۱۴۰۸ہـ
قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل
جلد 01 ص 521