فهرس الكتاب

الصفحة 394 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا اس میں حمل قائم ہوگیا اب وہ شخص اس عورت کے حمل کے وضع ہونے کے قبل نکاح کرلے تو اس کا نکاح عندالشرع درست ہوگا یا نہیں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ان الحکم الا للہ ّ عورت مذکورہ سے جس شخص نے زنا کیا ہے جس کا حمل قرار پاگیا وہی مرد اس عورت سے نکاح کرے تو اس کو وضع حمل کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لایحل لاحد یومن باللہ والیوم الاخر ان یسقی ماء ہ زرع غیرہ اخرجہ احمد وابو داؤد والترمذی

مگر اس کی تفصیل جواب ثانی میں لکھی گئی ہے فلیرجع الیہ واللہ اعلم وعلمہ اتم ّ حررہ ابو عبداللہ محمد ادریس عفہ عنہ القدوس

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ مولانا شمس الحق عظیم آبادی

ص133

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت