السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
ایک شخص نے مکان وقف کیا وہ کسی کام میں نہیں آرہا کیونکہ جس مسجد کےلئے وقف کیا گیا ہے وہ دور ہے اور امام کے لئے مکان الگ موجو ہے کیا اسے فروخت کر کے مسجد کی مرمت و تعمیر میں رقم صرف کی جاسکتی ہے۔؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
اگر مسجد کی کمیٹی مسجد کے مفاد میں یہ فیصلہ کرے تو جائز ہے جب کہ وقف جگہ کسی اور مصرف میں نہیں آرہی بہتر تو یہی ہے کہ وقف شدہ جگہ کومسجد کیکسی ضرورت کے لئے باقی رکھا جائے لیکن اگر مسجد کی تعمیری ضروریات زیادہ اہم ہیں تو نمازی مسجدمسجد کے مفاد میں کوئی بھی فیصلہ بالاتفاق کر سکتے ہیں۔اصل معاملہ مسجد کا مفاد اور وقف شدہ جگہ کا بہتر مد صرف کرنے کاہے۔
)پروفیسر عبد الحکیم سیف ناظم اعلیٰ جامعہ محمدیہ قدوسیہکوٹ رادھاکشن قصور)(اہل حدیث لاہور جلد17 شمارہ 47(
فتاویٰ علمائے حدیث
جلد 14 ص 149
محدث فتویٰ