فهرس الكتاب

الصفحة 1777 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

بعض لوگ چھ پائلی (ایک پیمانہ) دھان دےکر چار مہینے کے بعد 12پائلی لیتے ہیں۔کیا یہ سود میں داخل ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

یہ صورت سود میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔اور ممنوع ہے خواہ یہ معاملہ بیع و شرا کی صورت میں ہو یا قرض اور دھار کی شکل میں بہر صورت ممنوع ہے۔ہاں قرض کی صورت میں اگر قرض دہندہ دو گنا یا اصل سے کچھ زیادہ لینے کی شرط نہ لگائے۔نہ زیادہ دینے اور لینے کادسور ورواج ہو اور نہ قرض لینے والااصل سے زیادہ واپس کرنے کا وعدہ کرے۔بلکہ محض اپنی خوشی سے بغیر شرط کے اور بغیر دستور و رواج کے اور بغیر وعدہ کے کچھ زیادہ دے دے توقرض دہندہ کےلئے اس کالینا بلا شک و شبہ جائز ہوگا۔تفصیل مع دلیل بخاری صفحۃ 321 جلد 1 و مسلم وموطا مالک صفحہ و 283 و عالمگیری باب الرقض والاستقراض صفحہ 262 جلد 3 والمغنی صفحہ 361 وفتح القدیر میں ملاحظہ کیجئے اور بیع کی صورت میں یہ معاملہ مطلقًا ناجائز ہے میرے نزدیک احتیاط اسی میں ہے کہ چاول اور دوسرے غلہ جات کو اشیاء ربویہ کے حکم میں قرار دے کر ان میں بھی ربوی معاملہ سے اجتناب کیا جائے۔ (عبید اللہ رحمانی محدث دیلی جلد نمبر 10 مارہ نمبر 7)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 191

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت