فهرس الكتاب

الصفحة 1771 من 2029

اپنی چیز یعنی ایک روپے کی چیز کو دو یا تین روپے میں...الخ

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک تاجر کادعوی ہے کہ اپنی چیز یعنی ایک روپے کی چیز کو دو یا تین روپے میں ہم فروخت کریں گے جس کا دل چاہے لے یا نہ لے ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے۔کہ بازار میں کسی چیز کا نرخ اگر دو آنے سیر ہے اور ہم دس آنے سیر دیں تو شرعا کوئی گرفت نہیں تو کیا اس کا یہ دعویٰ ٹھیک ہے یا غلط؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

تجارت میں دغافریب منع ہے اپنی چیز کی قیمت جتنی ہے لے سکتا ہے خردیدار کو منظورہے تو لے لے ورنہ اختیار ہے لیکن مقررہ وزن یا مقدار میں کمی نہیں کرنا چاہیے البتہ جن چیزوں کا نرخ سرکاری طور پر مقرر ہوچکا تو اس کی پابندی کرنی بھی ضروری ہے۔

(مولانا عبد السلام بستوی دہلوی(

( الاعتصام جلد نمبر 21 شمارہ نمبر 5)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 188

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت