السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
زید امام مسجد ہے اور پابند شریعت ہے۔وہ اپنا کوٹہ ۔کھانڈ ۔تیل وغیرہ اپنے کارڈ پرحاصل کر کے زیادہ قیمت پرفروخت کر دیتا ہے۔جب لوگوں نے اسے کہا کہ ایسا کرنا قانونًا مروجہ کی رو سے جرم ہے۔تو اس نے کہا کہ جرم ہے تو ہو لیکن شریعت نے اسے تجارت کوجائز قرار دیا ہے۔اور یہ بھی تجارت ہے۔اب سوال یہ کہ زید کا یہ سوال کہاں تک درست ہے۔؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
قانون مروجہ کے خلاف بلیک کرنا حرام ہے۔حدیث شریف میں مذکور ہے۔
الاثم ما حاک فی نفسک وکرہت ان یطلع علیہ الناس
یعنی گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تو برا سمجھے کہ لوگوں کی خبر ہو یہ حدیث بلیک پر ثابت آتی ہے۔مگر بلوہ عام ہے۔
تشریح۔
از حضرت العلام مولانا ابو سعید محمد شرف الدین صاحب محدث دہلوی۔
فتاویٰ علمائے حدیث
جلد 14 ص 67
محدث فتویٰ