فهرس الكتاب

الصفحة 1945 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میں ایک سرکاری ادارے میں کام کرتا ہوں اور بعض اوقات کام کے بغیر ہی ہمیں اوور ٹائم کا معاوضہ ادا کیاجاتاہے حالانکہ ہم نے اوور ٹائم کام کیا ہی نہیں ہوتا (بلکہ) ہم تو (اس وقت ) ادارے میں موجود ہی نہیں ہوتے ۔اسے ملازمین کا معاوضہ قراردیاجاتا ہے اور ادارے کے سربراہ کو بھی اس کا علم ہوتاہے اور وہ اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا ۔آپ راہنمائی فرمائیں کیا ہمارے لیے یہ مال لینا جائز ہے اور اگر جائز نہیں تو ماضی میں میں نے اس طرح جو مال وصول کرلیا اور خرچ کرلیا ہے اس کے ابرے میں کیا حکم ہے ؟ جزاکم اللہ خیرًا

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اگر امرواقع اسی طرح ہے جیسے آپ نے ذکر کیا ہے تو یہ ایک منکر اور ناجائز کام بلکہ کیا خیانت ہے'اس طرح سرکاری خزانے سے آپ نے جو مال لیا ہے'واجب ہے کہ وہ سرکاری خزانے میں واپس لوٹائیں گے اور اگر اسے واپس کرنا ممکن نہ ہو تو مسلمان فقیروں اور فلاح وبہبود عامہ کے کاموں میں خرچ کردیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور صدق دل سے توبہ کریں اور عزم صادق کریں کہ آئندہ اس طرح نہیں کریں گے کیونکہ کسی بھی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مسلمانوں کے بیت المال میں سے شرعی طریقے کے بغیر کچھ بھی وصول کرے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص336

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت