السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
ایک شخص اس شرط پر روپیہ دیتا ہے کہ فی من غلہ یا کسی چیز میں مقرر فی من آٹھ آنے یا چھ آنے کے حساب سے کمیشن لیں گے ، روپیہ دینے کی عوض ، اور اس غلہ میں نفع ہو یا نقصان ہو سو ہمارے ذمہ رہا ، کیا شرح شریف میں اس قسم کا لین دین جائز ہے؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
جائز ہے کمیشن فروخت کرنے کی دلالی ہے سودا نہیں، (۲۴جون ۱۹۳۲ء)
فتاویٰ ثنائیہ
جلد 2 ص 392