فهرس الكتاب

الصفحة 1762 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا زید کے لئے پریذیڈنٹ فنڈ کےلئے کٹوتیاں کرانا جائز ہے جبکہ اس میں سود کا خدشہ ہے مگر دیگر صورت میں زید سودفی کے 625 روپہے سے ہی محروم نہ ہوتا بلکہ محکمہ کہ شامل کردہ تین ہزار کے فائدہ سے بھی محروم رہتا ؟اگر زید محکمہ کولکھ دیتا ہے کہ مجھے سود نہیں چاہیے تو اس طرح اس کے فنڈ میں سود کا اندراج نہ ہوتا اور اسے چھ ہزار روپے مل جاتے تو کیا یہ صورت ٹھیک ہے۔؟

اڑھائی فیصد شرکت کا مسئلہ

چند سال سے حکومت نے ملازمین کے لئے ایک نیا قانون شرکت کھاتہ کا بنایا ہے جس کی رو سے محکمہ خود بخود ہر سال اپنے سالانہ منافع کا اڑھائی فیصد حصہ ملازمین کا نام شرکت کھاتہ میں جمع کرتا رہتا ہے ی شرکت کھاتہ کی رقوم بھی پریزیڈنٹ فنڈ کی طرح صرف ملازمت سے علیحدگی پر ہی مل سکتی ہے۔اگرچہ شرکت کھاتہ کی ساری رقوم محکمہ ہی کی طرف س ہوتی ہے مگر چونکہ ملازمین کےنام جمع ہوتی ہیں اس لئے ان میں سود بھی شامل ہوتا رہتا ہے۔ایک خاص بات اس میں یہ کی گئی ہے کہ اصل شرکت کھاتہ کی رقوم تو محفوظ رکھ ی گئی ہیں مگر ان پر لگایا گیا گزشتہ تین سال کا سود اب ادا کیاجارہا یے شاید ہنگامی حالات کی وجہ سے گزشتہ سال بسال سود کے پیسے نہیں ملتے تھے خیال ہے کہ آئندہ سود کے پیس تو ہر سال ملتے رہیں گے مگر شرکت کھاتہ کی اصلی رقوم بددستور جمع ہوتی رہیں گی اور ملازم کی ملازمت کے اختتام پرہی ملے گی اس شرکت کھاتہ کے گوشوارے کچھ اس قسم کے بنائے گئے ہیں۔

پہلے سال

دوسرے سال

تیسرے سال

چوتھے سال

اڑھائی فی صد منافع کی نسبت سے محکمہ نے گزشتہ تین سال میں جو رقم زید کےنام اس کے شرکت کھاتہ میں جمع کی ہوئی ہے۔ 1750 ان رقوم پر سود کا اندراج جو تین سال میں ہوا 30۔69۔105 گزشتہ تین سال کے سود کے پیسے جوج زید کو ادا کئے جاتے ہیں 204 روپے

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اگر معلوم ہوجائے کہ محکمہ یہ کٹوتی سود کے مال سے دیتا ہے تو پھر قرآن و احادیث کی رو سے اس کا لینا قطعا ناجائز ہے اگر اس قسم کا علم نہیں تو پھر جائز ہے۔ کیونکہ حکومت کے پاس یا محکمہ کے پاس سارا مال سود کا نہیں ہوتا۔

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 176

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت