فهرس الكتاب

الصفحة 884 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میں ایک سرکاری ادارے میں فوٹو گرافرکے طور پر ملازمت کررہا ہوں اور مختلف مواقع کی مناسبتوں سے مجھے کیمرے سے فوٹو بنانے پڑتے ہیں۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تصویر حرام ہے جب کہ وہ انسانی تصویر ہو۔امید ہے کہ آپ فتویٰ کے ذریعہ راہنمائی فرمائیں گے تاکہ میں اس کام سے دور ہوجاؤں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب ہو۔اللہ تعالی کی ناراضی کا سبب ہو۔اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے اور نیکی کی توفیق سے نوازے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ہرجان دار چیز کی تصویر حرام ہے خواہ وہ انسان ہو یاحیوان اورتصویر خواہ برش سے بنائی جائے یا بن کر یا کیمرہ سے کسی ایک اور چیز سے اور خواہ وہ مجسم ہو یا غیر مجسم ۔تصویر ہر طرح حرام ہے 'کیونکہ تصویر کی حرمت پر دلالت کرنے والی احادیث کے عموم سے یہی ثابت ہے ۔ فتویٰ کمیٹی کی طرف سے اس سلسلہ میں ایک مفصل اور مدلل فتویٰ جاری ہوچکا ہے۔ہم اس کی فوٹو کاپی ارسال کررہے ہیں تاکہ آپ اس سے مستفید ہوسکیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص383

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت