فهرس الكتاب

الصفحة 1918 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

امریکی ڈالروں کی کمائی کے لیے ادھار بیع کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور اگر یہ بیع جائز نہیں تو مقررہ مدت آنے پر بائع کو کس حساب سے رقم ادا کی جائے اور اس طرح کا معاملہ کرنے والے فریقوں کو کیا کرنا چاہیے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

امریکی ڈالر بھی کرنسی ہے اور اس کے ساتھ معاملہ کرنے کے بارے میں بھی وہی حکم ہے جو دیگر کرنسیوں کا ہے یعنی ڈالر کی ڈالر کے ساتھ کمائی کے لیے ادھار بیع جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں ربا الفضل بھی ہے اور ربا النسیئہ بھی اور نہ ہی اس کی کسی دوسری کرنسی کے ساتھ ادھار بیع جائز ہے کیونکہ اس میں ربا النسیئہ ہے، لہذا ان دونوں حالتوں میں عقد بیع فاسد ہو گا۔

بائع کو نفع کے بغیر اصل رقم ہی واپس کرنی چاہیے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَإِن تُبتُم فَلَکُم رُ‌ءوسُ أَمو‌ٰلِکُم لا تَظلِمونَ وَلا تُظلَمونَ 279} ... سورة البقرة

"اور اگر تم (اب بھی) توبہ کر لو (اور سود چھوڑ دو) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے نہ تم ظلم کرو، اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔"

اور وہ عقد فاسد ہونے کی وجہ سے فورا اس کا مستحق ہو گا۔ اس طرحکا کاروبار کرنے والوں میں سے جس شخص کو اس برائی سے روکا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ رک جائے اور اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرے اور اگر وہ توبہ نہ کرے اور اس حرام کاروبار کو جاری رکھے تو حکمران اسے کوئی مناسب تعزیر سزا بھی دے سکتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت