فهرس الكتاب

الصفحة 61 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا کسی مسلمان کے لئے مجلاّت میں شائع ہونے والی عورتوں کی تصویریں دیکھنا جائز ہے؟ کیا عورتوں کو براہ راست دیکھنے یا رسالوں ، اخبارات میں ان تصویریں دیکھنے کی حرمت ایک جیسی ہے؟ رہنمائی فرمائیں!

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

بلا شبہ بے پردہ عورتوں کو دیکھنا ان امور میں سے ہے جو فتنے کا سبب بنتے اور فحاشی کی دعوت دیتے ہیں، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو پردے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے:

{وَلیَضرِ‌بنَ بِخُمُرِ‌ہِنَّ عَلیٰ جُیوبِہِنَّ...31} ... سورة النور

'' اور اپنے سینوں پر اور اپنی اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں۔''

بلا شبہ عریاں اور نیم عریاں تصویریں دیکھنا فتنے کا باعث ہے لہٰذا ہر اسی تصویر دیکھنا حرام ہے جو فتنے فساد کا سبب بنے خواہ وہ فلم، اخبارات، رسائل یا کسی اور بھی جگہ ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص85

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت