فهرس الكتاب

الصفحة 1504 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا چاندی کے انگوٹھی کے علاوہ لوہے یا پیتل وغیرہ کی انگوٹھی پہننے کا جواز مرد وزن کو ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

لوہے یا پیتل وغیرہ کی انگوٹھی پہننا بعض روایات میں منع آیا ہے اگرچہ روایت میں کلام ہے: (باب ماجاء فی خاتم الحدید سنن ابو داؤد ) (صححہ الالبانی صحیح ابی دائود کتاب الخاتم باب ماجاء فی خاتم الحدید(4225) والنسائی (5212-5210)

صاحب عون المعبود فرماتے ہیں:

'' والحدیث یدل علی کراہة لبس خاتم الحدید '' (4/144)

انگوٹھی میں موتی یا ہیرا وغیرہ جڑوانا بظاہر جائز ہے حدیث میں ہے:

'' کان خاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم من ورق فصہ حبشی '' (صحیح مسلم کتاب اللباس باب فی خاتم الورق قصہ حبشی(5487) ابو دائود (4216) والمشکاة (4388) (سنن ابی دائود ماجاء فی اتخاد الخاتم )

یعنی '' نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی میں نگینہ حبشی تھا۔''

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

'' ای کان حجرا من بلاد الحبشة او علی لون الحبشة او کان جزعا او عقیقا لان ذلک قد یوتی من بلاد الحبشة '' (فتح الباری 10/322)

یعنی '' نگینہ ملک حبشہ کے پتھر یا حبشی رنگ یا منکے یا عقیق پتھر کا تھا کیونکہ اسے ملک حبشہ سے برآمد کیا جاتا تھا۔''

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص562

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت