فهرس الكتاب

الصفحة 806 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایسے مختصر لباس کے ساتھ کھیلنے کے بارے میں کیا حکم ہے ،جس سے ستر پوشی کے تقاضے پورےنہ ہوتے ہوں ، نیز اس طرح کے کھلاڑیوں کے کھیل کو دیکھنے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

کھیل میں حصہ نہ لینا جائز ہے بشرطیکہ وہ کسی واجب چیز سےغافل نہ کرے اوراگر وہ کسی واجب چیز سے غافل کردے تو پھر حرام ہے اور اگر انسان کھیل کو د میں اس قدر مشغول ہو جائے کہ اس کا اکثر وقت اس میں صرف ہوتا ہو تو اس میں وقت کا ضیاع ہے اور اس حالت میں جو بات کم سے کم کہی جاسکتی ہے ، وہ یہ ہے کہ یہ کمروہ ہے اور اگر کھلاڑی نے اس قدر مختصر نیکر وغیرہ پہن رکھی ہو کہ اس سے اس کی ران یا اس کا اکثر حصہ ننگا ہوتا ہو تو یہ جائز نہیں ہے ، کیونکہ صحیح بات یہ ہے کہ نوجوان آدمی کے لیے وادب ہے کہ وہ اپنی رانوں کو چھپائے ، اگر کھلاڑیوں کی رانیں ننگی ہوں تو انہیں دیکھنا جائز نہیں ہے

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص453

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت