فهرس الكتاب

الصفحة 330 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

استمناءبالیدیعنی مشت زنی حرام ہے ،ہر مسلمان کے لئے اس سے اجتناب کرنا واجب ہے کیونکہ یہ فعل حسب ذیل ارشادباری تعالی کے خلاف ہے:

{وَالَّذِینَ ہُمْ لِفُرُ‌وجِہِمْ حَافِظُونَ 5} إِلَّا عَلَیٰ أَزْوَاجِہِمْ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ فَإِنَّہُمْ غَیْرُ‌ مَلُومِینَ {6} فَمَنِ ابْتَغَیٰ وَرَ‌اءَ ذَٰلِکَ فَأُولَـٰئِکَ ہُمُ الْعَادُونَ (المومنون۲۳/۵۔۷)

''اورجو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی ملک ہوتی ہیں کہ (ان سے مباشرت کرنے سے) انہیں ملامت نہیں اورجو ان کے سوااورروں کے طالب ہوں ،وہ (اللہ کی مقررکی ہوئی) حد سے نکل جانے والے ہیں۔''

اوریہ اس لئے بھی حرام ہے کہ اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں،واللہ ولی التوفیق۔

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 398

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت