فهرس الكتاب

الصفحة 436 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

یہاں ایک عورت ہے۔ جس کے پاس اس کی شادی شدہ بیٹی ہے اور یہ عورت اپنے داماد سے پردہ کرتی ہے اور اس کے ساتھ کھانا نہیں کھاتی۔ حتیٰ کہ تقریبات میں بھی اسے سلام نہیں کہتی۔ اس بارے میں کیا حکم ہے؟ (سعید۔۱)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

بیٹی کا خاوند بیٹی کی ماں کے لیے محرم ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ محرمات کے بیان میں فرماتے ہیں:

{وَ اُمَّہٰتُ نِسَآئِکُمْ} (النسآئ: ۲۳)

''اور تمہاری بیویوں کی مائیں (بھی تم پر حرام ہیں ) ۔''

اور اس بات پر اہل علم کا اجماع ہے۔ گویا بیوی کی ماں اور دادیاں خواہ وہ باپ کی طرف سے ہوں یا ماں کی طرف سے، مذکورہ بالا آیت کی رو سے، سب کی سب عورت کے خاوند کے لیے حرام ہیں ۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اس سے پردہ نہ کریں یا اس کے ساتھ کھانا کھائیں ۔ اگر وہ ایسا کریں تو بہتر اور افضل ہے۔ مبادا ان دونوں میں الفت اور محبت زیادہ ہو اور اللہ کے اس حکم کی اطاعت ہو جائے جو اس عورت کے لیے مباح تھا۔

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 183

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت