فهرس الكتاب

الصفحة 1331 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

رشوت نص اور اجماع کی رو سے حرام ہے اور رشوت وہ مال ہے جو حاکم وغیرہ کو اس غرض سے دیا جائے کہ وہ حق سے رخ موڑ کر رشوت دینے والے کی خواہش کے مطابق فیصلہ کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے والے اور دینے والے پر لعنت فرمائی، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی بات ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت کی سودا بازی کرنے والے یعنی دلال پر بھی لعنت فرمائی جو ان دونوں کے درمیان واسطہ ہوتا ہے اور بلا شک وہ گنہگار ہے اور مذمت، عیب اور سزا کا مستحق ہے۔ کیونکہ وہ گناہ اور سرکشی کے کاموں پر معاون ہے جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں:

[وَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِo (المآئدۃ: ۲)

''اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں مدد نہ کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔''

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 157

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت