فهرس الكتاب

الصفحة 444 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا سفر میں یا حضر وغیرہ میں ایک عورت کو دوسری اجنبی عورت کے لیے محرم سمجھا جائے یا نہیں ؟ (علی۔ ع۔ ا۔القصیم)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

کوئی عورت دوسری کے لیے محرم نہیں ۔ محرم تو صرف وہ شخص ہے جو عورت کے نسب کے لحاظ سے اس پر حرام ہو۔ جیسے اس کا باپ اور اس کا بھائی یا مباح کا سبب ہو۔ جیسے خاوند اور خاوند کا باپ اور خاوند کا بیٹا اور جیسے رضاعی باپ یا رضاعی بھائی اور دوسرے محرم رضاعی رشتے۔

کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی اجنبی عورت سے خلوت کرے اور نہ ہی اس کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے۔ کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا ہے:

(( لَا تُسَافِرُ الْمَرْاۃُ الَّا مَعْ ذِی مَحْرَمٍ ) )

''کوئی عورت اپنے محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔''

اس حدیث کی صحت پر شیخین کا اتفاق ہے۔

اور اس لیے بھی کہ نبیﷺ نے فرمایا:

(( لَا یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَاۃٍ، فاِنَّ الشَّیْطَانَ ثالِثُھُمَا ) )

''جب کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ علیحدہ ہوتا ہے تو ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔''

اس حدیث کو امام احمد وغیرہ نے عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اسناد صحیح کے ساتھ روایت کیا… اور توفیق دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 190

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت