فهرس الكتاب

الصفحة 439 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا عورت کے لیے جائز ہے کہ جب وہ مدرسہ یا ہسپتال یا رشتہ داروں یا ہمسایوں کو ملنے کے لیے جائے تو خوشبو لگا کرنکلے؟ (قاریہ)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اگر عورت کسی عورتوں کے اجتماع میں جائے اور راستہ میں مردوں کے قریب سے نہ گزرنا پڑے، تو اسے خوشبو لگانا جائز ہے۔ لیکن اگر وہ خوشبو لگا کر بازار جائے جہاں مرد ہوتے ہیں تو یہ جائز نہیں ۔ کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا ہے:

(( ایُّمَا امْرَاۃٍ اصَابَتْ بَخُورًا، فلَا تَشْھَدَنَّ مَعَنا الْعِشَائَ ) )

''جو عورت خوشبو لگائے، وہ ہمارے ساتھ عشاء میں شامل نہ ہو۔''

اور اس بارے میں اور احادیث بھی وارد ہوئی ہیں ۔ کیونکہ عورتوں کا خوشبو لگا کر ایسے راستے کی طرف نکلنا جہاں مرد ہوں یا وہ کہیں مل بیٹھتے ہوں ، مساجد میں جانے کی طرح ہے وہ یہ فتنہ کے اسباب سے ایک سبب ہے۔ لہٰذا عورت کا اپنے آپ کو پوری طرح ڈھانپنا اور زینت کی نمائش سے بچنا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

{وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی} (الاحزاب: ۳۳)

''عورتیں اپنے گھروں میں قرار پکڑے رہیں اور پہلی جاہلیت کی طرح زینت کی نمائش نہ کرتی پھریں ۔''

اور حسن اور فتنہ والی جگہوں مثلًا چہرہ اور سر وغیرہ کا اظہار بھی نمائش میں شامل ہے۔

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 185

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت