فهرس الكتاب

الصفحة 1303 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک آدمی کا باپ فوت ہو گیا ہے اور اس کی جائیداد میں سود کے پیسے ہیں۔ اب وہ پیسے ورثاء لے سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں لے سکتے تو کیا کریں؟ (ضیاء اللہ ، اوکاڑہ)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُئُ وْسُ اَمْوَالِکُمْ[البقرۃ:۲۷۹] [''ہاں اگر توبہ کر لو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے۔''] تو اس آیت کریمہ کے مد نظر ورثاء سود کے پیسے واپس کر دیں اور باقی جائیداد کتاب و سنت کے مطابق تقسیم کر لیں۔ ۲۶/۲/۱۴۲۱ھ

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 497

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت