فهرس الكتاب

الصفحة 1783 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

زید نے اپنا کھیت بکر اس شرط پردیا کہ اس کی پیداوار یا سودو زیاں سے کچھ سروکار نہیں مگر ہمکوسالانہ اتنا پیسہ دے دے ۔آیاایسا کرنا جائز ہے یانہیں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

یہ کرایہ اراضی کی صورت ہے جو جائز ہے حدیثوں میں اس کا جواز آیا ہے۔

تشریح۔

اراضی کوروپے پیسے کے دعوض کرایہ پر اٹھانے کی حدیث سوار بن ابی وقاص کی روایت سے برواہ ہے ،مسند احمد وغیرہ نیل الاوطار جلد نمبر 5 صفحہ 236 پر موجود ہےمولف

(فتاوی ثنایئہ جدل 2 ص 141)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 204

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت