فهرس الكتاب

الصفحة 164 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کسی کی لڑائی دیکھنا جائز ہے یا نہیں ؟ (سائل: مولانا محمد یحییٰ مذکور )

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

کسی کی لڑائی کو بطور تماشہ اور ذہنی عیاشی کے دیکھنا قطعًا جائز نہیں ۔ بلکہ حکم یہ ہے کہ مظلوم اور ظالم دونوں کی مدد کی جائے ، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے:

أنصر اخاک ظالما او مظلوما . (کتاب المظالم باب اعن اخاک ظالما او مظلوما ج1ص 330)

صحابہ نے عرض کیا کہ مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آتا ہے ،مگر ظالم کی مدد کا مفہوم و مطلب سمجھ میں نہیں آ رہا تو آپ ؐ نے فرمایا کہ ظالم کا ہاتھ پکڑ لیا جائے تاکہ وہ مزید ظلم نہ کر سکے ۔ قال تاخذ فوق بدیہ. اسی طرح اسی باب میں حضرت ا بن عمر سے مروی ہے:

ان رسول اللہ قال: المسلم اخوالمسلم لا یظلمہ و لایسلمہ . (الحدیث صحیح البخاری: 23ج1)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ خود اس پر ظلم ڈھاتا ہے اور نہ اسے ظالم کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہے ۔''

پس کسی کی لڑائی دیکھنا جائز نہیں بلکہ لڑائی بند کرانے کی مقدور بھر کوشش کرنی چاہیے۔طاقت کے ہوتے ہوئے لڑنے والوں کو نہ روکنا بھی اخوت اسلامی اور انسانی ہمدردی کے سراسر خلاف ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص868

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت