فهرس الكتاب

الصفحة 1193 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

یہاں کشمیر میں بیع دو طرح سے ہوتی ہے پہلی صورت یہ ہے کہ ایک ہی وقت بروئے تحریر کئی کئی سالوں کے لئے فصل خرید لیتے ہیں کیا یہ جائز ہے ؟ ، (خریدار اہلحدیث نمبر ۱۶۸۴۵)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

صورت کا نام اجارۃ الارض ہے آج کل سرکاری بندوبست کے کاغذوں میں اس کو مستاجر کہتے ہیں یہ جائز ہے اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ زمین نقدی معاوضے ہر لی جاتی ہے جس کو کرایۃ الارض کہتے ہیں اس کے ثبوت میں حدیث شریف کے الفاظ یہ ہیں

امر بالمواجرة وقال لا باس بہا صحیح مسلم دومشکوة باب الاجارة. آنحضر ت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے زمین کرایہ پر دینے کی اجازت فرمائی اور فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے ،

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 457

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت