فهرس الكتاب

الصفحة 378 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

(ا) ایک شخص کی حقیقی بیٹی عمر تقریبًا چھ سات سال ہے اس سے زیادہ نہیں ہے رات کو باپ کے ساتھ لیٹی ہو ئی تھی باپ بری نیت سے (شہوت کی نیت سے ) اس کے جسم پر ہا تھ پھیر تا رہا بلکہ کپڑوں سمیت اپنے ساتھ چمٹا لیا جس سے کپڑوں کے اندر ہی منی خا رج ہو گئی اس حرکت کی وجہ سے اس کی بیوی ۔اس پر حرا م ہو گئی یا نہیں ؟

(ب) ایک شخص کی بیٹی عمر تقر یبًا 13،14،سال ہے بالغ نہیں ہے باپ باہر سے گھر آتا ہے سب بچے اسے ملتے ہیں (دس بچے ہیں ) بڑی بیٹی جب ملتی ہے تو دل میں برا خیال آجا تا ہے تین چار دفعہ ایسا ہوا ہے اب بڑی بیٹی کو تو ملنا چھوڑ دیا ہے لیکن پہلے جو تین چا ر دفعہ ملنے سے دل میں برا خیال آیا اس کی وجہ سے اس کی بیوی اس پر حرا م ہو گئی یا نہیں ۔

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ہر دوصورت میں اس فعل شنیع کے مر تکب کی بیوی اس پر حرام نہیں ہو گی را جح اور محقق مسلک کے مطابق مس بالشہوۃ سے حرمت مصا ہرت ثابت نہیں ہوتی حضرت عا ئشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مر فو عًا مروی ہے ۔

«لا یفسد الحلال بالحرام»

"یعنی حرا م کے ارتکا ب سے حلال شے فاسد نہیں ہو تی ۔"

نیز ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرفو عًا بیا ن کرتے ہیں ۔

«لایحرم الحرام الحلال»

التعلق المغنی ) (میں ہے(واسنادہ اصلح من حدیث عائشة)

یعنی"اس حدیث کی سند حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث سے زیا دہ درست ہے ۔فتح الباری میں ہے ۔"

«واسنادہ اصلح من الاول (9/156)

واضح ہو کہ جمہور اہل علم کے نزدیک ارتکا ب زنا سے حر مت ثا بت نہیں ہو تی تو پھر مس بالشہوۃ سے بطریق قولی ثابت نہیں ہو گی ،ملا حظہ ہو (فتح الباری 9/157)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص871

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت