فهرس الكتاب

الصفحة 621 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا گھر یا کسی بلڈنگ کے مالک کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ تمام اشیاءکے دھونے کے لئے ایک ہی نالی بنائے جس میں برتن بھی دھوئے جائیں ،دیگر اشیاء کو بھی دھویاجائے؟کھانا کھان کے بعد ہاتھ اوردیگر اشیاءبھی؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اس میں کوئی حرج نہیں کہ برتنوں ،کھانے کے بعد ہاتھوں اوردیگر چیزوں کے دھونے کے لئے ایک ہی نالی بنائی جائے کیونکہ ہاتھوں اوربرتنوں کو لگی ہوئی چکناہٹ،کھانانہیں ہے ہاں البتہ روٹی ،گوشت اورکھانے پینے کی دیگر چیزوں کو نالیوں میں گرانا جائز نہیں ہے بلکہ یہ چیزیں ضروت مندوں کو دے دی جائیں یا پھر انہیں اس مقصد سے کسی اونچی جگہ پر رکھ دیا جائے جہاں سے لوگ انہیں اپنے جانوروں کو کھلانے کے لئے لے لیں یا جانور اورپرندے وغیرہ از خود کھالیں۔بچے ہوئے کھانے کو کوڑا کرکٹ کے ڈرم یا گندی جگہوں یا راستہ میں پھینکناجائز نہیں کیونکہ اس میں کھانے کی بےحرمتی ہے خصوصا ًراستہ میں پھینکنے میں بے حرمتی بھی ہے اورراستہ پر چلنے والوں کے لئے تکلیف بھی !

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص419

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت