فهرس الكتاب

الصفحة 718 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

(۱) داڑھی رکھنا فرض ہے یا کہ نہیں ؟ اگر فرض ہے تو قرآن وحدیث سے دلیل لکھیں ؟

(۲) کیا داڑھی کا تارک کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے یا کہ نہیں اگر کبیرہ گناہ کرتا ہے تو اس کی بھی دلیل قرآن وحدیث سے لکھیں ؟

حمد اسحاق جی ٹی روڈ گوجرانوالہ25/11/85

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

بخاری ومسلم میں داڑھی رکھنے کا حکم نبوی {اَعْفُوْا اللِّحٰی} 1 موجود ہے اور اللہ تعالیٰ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنا فرض ہوتا ہے قرآن مجید میں ہے {وَمَا کَانَ لِمُوْمِنٍ وَّلاَ مُؤْمِنَۃٍ} الخ لہٰذا داڑھی رکھنا فرض ہے اور داڑھی رکھنے کے حکم نبوی کے ندب پر محمول ہونے کی کوئی دلیل کتاب وسنت میں موجود نہیں ۔۱۲ربیع الاول ۱۴۰۶ہـ

1 [بخاری ۔ کتاب اللباس ۔ باب إعفاء اللحی]

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 ص 515

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت