فهرس الكتاب

الصفحة 89 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا آدمی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ کسی ایسی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرے جہاں مرد اور عورتیں ایک ہی کمرے میں مخلوط طور پر تعلیم حاصل کرتے ہوں، یاد رہے یہ آدمی دعوت الی اللہ کے میدان میں بھی خاصا سرگرم ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

میری رائے میں کسی بھی انسان کے لئے خواہ و ہ مرد ہو یا عورت یہ جائز نہیں کہ وہ مخلوط درس گاہوں میں تعلیم حاصل کرے کیونکہ اس میں اس کی عفت و پاکدامنی اور اخلاق کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے کیونکہ انسان خواہ کیسا ہی پاک دامن اور با اخلاق کیوں نہ ہو جب اس کے ساتھ اس کی نشست پر ایک خاتون بھی بیٹھی ہو گی جو خوبصورت بھی ہو اور اس نے میک اپ بھی کر رکھا ہو تو فتنے فساد اور خرابی سے محفوظ رہنا ممکن نہیں ہے اور ہر وہ چیز جو فتنے و فساد اور خرابی کا باعث ہو وہ حرام ا ور ناجائز ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں ان امور سے محفوظ رکھے جو ان کے نوجوانوں کو فتنہ و فساد اور شر میں مبتلا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اگر ملک میں صرف ایک ہی یونیورسٹی ہو تو طلبہ کو چاہیے کہ اسے چھوڑ کر کسی ایسے ملک چلے جائیں جس کے اداروں میں مخلوط تعلیم نہ ہو دوسروں کی رائے خواہ کچھ اور ہو میری رائے میں مخلوط تعلیم جائز نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص118

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت