فهرس الكتاب

الصفحة 1025 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

جب کوئی تاجر کسی بیرونی کمپنی سے چاول ، چینی یا چائے منگواتا ہے تو وہ اپنے اس مال کی کل قیمت پر کسی بیمہ کمپنی کے پاس دو فیصد کے حساب سے انشورنس ادا کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں کمپنی ان تمام نقصانات کو ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کرلیتی ہے جو اس کے مال کو غرق ہو جانے ، جل جانے یا کسی اور طرح سے تباہ ہو جانے کی صورت میں لاحق ہوں حتیٰ کہ اگر جہاز غرق ہو جائے تو بیمہ کمپنی مال کی تمام قیمت ادا کرتی ہے۔ اس کے متعلق کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اگر امرواقع اسی طرح ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو یہ تجارتی بیمہ ہے جو کہ حرام ہے کیونکہ اس میں واضح طور پر نقصان بھی ہے اور جو ابھی اور یہ دونوں کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص26

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت