فهرس الكتاب

الصفحة 1250 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک سائل نے بہ پوچھا ہے کہ ہمارے شہر میں چیونٹیاں بہت خفناک صورت اختیار کر گئی ہیں کہ نہ صرف وہ کھانے پینے کی چیزوں اورلباس کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ وہ ہمیں جسمانی طور پر بھی نقصان پہنچاتی ہیں تو کیا انہیں مارنا جائز ہے ؟ ان کے مارنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟ کیا یہ ہمارے لیے ابتلاء ہے ؟ ہم اسے کس طرح دور کریں ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اگر امر واقع اسی طرح ہے جیسے بیان کیا گیا ہے تو پھر تمہارے لیے چیونٹیوں کو مارنا جاز ہے ۔ خواہ اس کے لیے آگ کے سوا کوئی بھی طریقہ اختیار کرو اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بھی ابتلاء و امتحان ہے لہذا اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور اللہ سبحانہ وتعالی کے حضور توبہ و استغفار کرنا چاہیے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص471

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت