فهرس الكتاب

الصفحة 216 من 2029

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماءکرام اس بارے میں کہ کوئی شخص اپنی عورتوں کو باہر بیوٹی پارلر بھیجتا ہے اگر چہ اس عمل میں کوئی خلاف شریعت کام نہ ہو۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اصولًا عورت کے لیے ضروریات زندگی، مستحبات اور مباحات کے لیے اپنے گھر سے باہر نکلنا جائز ہے۔ پس عورت اپنی تزئین وآرائش کے لیے بیوٹی پارلر جا سکتی ہے بشرطیکہ شرعی اصول وضوابط کی پاسداری کی جائے مثلًا عورت ستر وحجاب کی پابندی کے ساتھ گھر سے باہر نکلے یا بیوٹی پارلر میں غیرشرعی کاموں سے اجتناب کرے مثلًا بھنویں بنوانا یا ستر میں شامل جسم کے اعضا کی ویکس وغیرہ کروانے کے لیے ستر کو کھولنا وغیرہ یا خاوند کے علاوہ غیر محرم مردوں کے لیے تیار ہونا۔وغیرہ

ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتویٰ کمیٹی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت