فهرس الكتاب

الصفحة 1086 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

قسطوں پر خریدی جانے والی گاڑی سودی رقم سے ہے یا نہیں جبکہ رقم پہلے ہی مقرر ہوتی ہے؟

(محمد شکیل ، فورٹ عباس ۱۷/۱۲/۲۰۰۰ئ(

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

قسطوں پر خریدی ہوئی چیز ، گاڑی ہو خواہ کوئی اور ۔ کی قسطوں والی قیمت اگر نقد قیمت کی بنسبت زیادہ ہے تو سود ہے وہ پہلے ہی سے مقرر ہو یا بعد میں بڑھائی جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃ أَوْ کَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا ) )4[''جو ایک بیع میں دو بیع کرتا ہے پس اس کے لیے ان

دونوں سے تھوڑا ہے یا سود ہے۔'' ]۱۲/۱۰/۱۴۲۱ھ

4 سنن ابی داؤد/کتاب البیوع/باب فی من باع بیعتین فی بیعۃ واحدۃ۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 554

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت