السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
قسطوں پر خریدی جانے والی گاڑی سودی رقم سے ہے یا نہیں جبکہ رقم پہلے ہی مقرر ہوتی ہے؟
(محمد شکیل ، فورٹ عباس ۱۷/۱۲/۲۰۰۰ئ(
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
قسطوں پر خریدی ہوئی چیز ، گاڑی ہو خواہ کوئی اور ۔ کی قسطوں والی قیمت اگر نقد قیمت کی بنسبت زیادہ ہے تو سود ہے وہ پہلے ہی سے مقرر ہو یا بعد میں بڑھائی جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃ أَوْ کَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا ) )4[''جو ایک بیع میں دو بیع کرتا ہے پس اس کے لیے ان
دونوں سے تھوڑا ہے یا سود ہے۔'' ]۱۲/۱۰/۱۴۲۱ھ
4 سنن ابی داؤد/کتاب البیوع/باب فی من باع بیعتین فی بیعۃ واحدۃ۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل
جلد 02 ص 554