فهرس الكتاب

الصفحة 222 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ہاتھ میں گھڑی پہننےکےبارےمیں کیاحکم ہےبعض لوگ اس پراعتراض کرتےہوئےکہتےہیں کہ اس میں عورتوں کےساتھ مشابہت ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ہمارےنزدیک اس میں کوئی حرج نہیں اوراس میں عورتوں کےساتھ مشابہت بھی نہیں ہےکیونکہ عورتوں اورمردوں کی گھڑیاں مخصوص اورالگ الگ ہیں اوراگرمردوں اورعورتوں کی گھڑیاں ایک جیسی ہوں توپھربھی اس میں کوئی حرج نہیں جیساکہ چاندی کی انگوٹھی مشترک ہے،اسےمرداورعورتیں سب استعمال کرسکتےہیں،اسی طرح گھڑی بھی سب استعمال کرسکتےہیں کیونکہ گھڑی کااستعمال بطورزینت وزیورنہیں ہوتابلکہ اس کااستعمال تواوقات معلوم کرنےکےلئےہوتاہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص412

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت