السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
کسی تجارت میں روپیہ بطور مضاربت دیا گیا مگر اس شرط پر کہ اگر تجارت میں نقصان ہو تو ہم اس کے ذمہ دار نہ ہوں گے اور ہمارے راس المال میں کوئی اثر اس کا نہ ہو ، کیا ایسا جائز ہے، (بانو بیگم جارس)
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
حقدرمضاربت میں نفع و نقصان میں شرکت ضروری ہے مذکورہ میں عقد مضاربت نہیں بلکہ سود ہے ، (۸صفر ۳۹ء)
فتاویٰ ثنائیہ
جلد 2 ص 421