فهرس الكتاب

الصفحة 1197 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

زید ہمیشہ وکالت کو انجام دیتا ہے بکر اس پر یہ الزام دیتا ہے کہ پیشہ دکالت کی مذہبًا سخت ممانعت ہے بلکہ حرمت کی حد تک پہنچ جاتی ہے لہذا ترک کر دیا جائے ۔

پس ایسی صورت میں بروئے قرآن و حدیث شریف آیا فی الواقع پیشہ وکالت بموجب قول بکر مذہبًا ناجائز و قابل ترک ہے ؟ اگر ہے تو کس شرط کے ساتھ اگرنہیں ہے تو کس طرح ؟ بصرات و تفصیل اس فتوے کو اخبار اہلحدیث میں شائع فرماکر آپ عنداللہ ماجور و عندالناس مشکور ہوں ، (خریدار نمبر ۲۹۶۶)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

پیشہ وکالت کی دوحثیتیں ہیں اصل منصب کے لحاظ سے تو جائز کاموں میں وکالت جائز ہے الاان مقدمات میں جن میں قانون کی خلاف شریعت ہے مثلا دیوانی میں میعاو قرضہ یا فوجداری میں شراب ، خمر اور زناکا جواز ایسے مقدمات میں بپابندی قانون پیروی کرنا بھی خلاف شریعت ہے حق یہ ہے کہ طریق عمل نے اس پیشہ کو بہت کچھ موردالزام بنایا ہے جس کی تفصیل کی ضرورت نہیں نہ مناسب ہے اگر درخانہ کس است یک حرف بس است، (۲۴مئی ۱۹۲۹ء؁)

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 469

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت