فهرس الكتاب

الصفحة 581 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا یہ ایک مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے غیر مسلم ساتھیوں کی عزت افزائی کےلئے ان کی خدمت میں ایسا کھانا پینا پیش کرے جو دین اسلام میں حرام ہو؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اسلام رواداری آسانی اورسہولت کا دین ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ عدل واکرام اور دیگراسلامی آداب کا دین بھی ہے۔لیکن جس شخص کی عزت افزائی کی جارہی ہو وہ کافر ہو تو عزت افزائی کرنے والے کے مقصد کے مختلف ہونے سے اور جس سے وہ اس کی عزت افزائی کرنا چاہتا ہے اس کے مختلف ہونے سے بھی حکم مختلف ہوگا اگر عزت افزائی کا (کوئی ) شرعی مقصد ہے مثًلا وہ کافر کے ساتھ مراسم پیدا کرکے اسے اسلام کی دعوت دینا چاہتا ہے تاکہ اسے کفروضلالت سے بچالے تو یہ ایک پاکیزہ مقصد ہے۔

شریعت کے مقررہ قواعد میں سے ایک قاعدہ یہ بھی ہے۔کہ وسائل کا حکم ان کے مقاصد کے اعتبار سے ہوتا ہے ۔اگر مقصد واجب ہو تو وہ وسیلہ بھی واجب ہوجاتا ہے۔اور اگرمقصد حرام ہوتو وسیلہ بھی حرام ہوگا اگر کافر کی عزت افزائی کا مقصد شرعی نہ ہو او ر ترک عزت کا کوئی نقصان بھی نہ ہو تو ا س کی عزت کرنا جائز ہے۔ لیکن اس کی خدمت میں حرام کھانا پینا مثلًا خنزیر کا گوشت یا شراب پیش کرنا جائز نہیں کیونکہ اس کی عزت افزائی میں اس کی اطاعت او ر اللہ تعالیٰ ٰ کی نافرمانی ہے اور اس کے حق کو اللہ تعالیٰ ٰ کو اللہ تعالیٰ ٰ کےحق پر مقدم قرار دیناہے۔جبکہ ایک مسلمان پر فرض یہ ہے کہ وہ اپنے دین کو مضبوطی سے تھامے۔اجنبی ممالک میں اپنے دین پر عمل کرنے بہت اچھے اثرات ونتائج ظاہر ہوتے ہیں۔اسی طرح مسلمان قول وعمل کے اعتبار سے دین کاداعی بن جاتا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت