فهرس الكتاب

الصفحة 1121 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک تاجر کا دعویٰ ہے کہ اپنی ایک روپیہ کی چیز کو دو یا تین روپیے میں ہم فروخت کریں گے جس کا دل چاہیے لے یا نہ لے ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ بازار میں نرخ کسی چیز کا ۶سیر ہے اور ہم ۱۰سیر دیں گے تو گوئی گرفت شرعًانہیں تو کیا اس کا یہ دعویٰ صحیح ہے یا غلط؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

تجارت میں دغا فریب منع ہے اپنی چیز کی قیمت جتنی چاہیے لے سکتا ہے خریدار کومنظور ہے تو لے لے ورنہ اختیار ہے لیکن مقرر وزن میں مقدار میں کمی نہیں کرنی چاہیے البتہ جن چیزوں کا سرکاری نرخ مقرر ہو چکا ہے ان کی پابندی کرنی بھی ضروری ہے، (اہلحدیث ۲شعبان ۲۳؁ء(

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 401

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت