السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
اگر بیوی کی رضامندی ہو تو کیا اس کے دبر میں سیکس کیا جا سکتا ہے، اور اس کو چوماجا سکتا ہے؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
بیوی کی دبر میں جماع کرنے سے نبی کریم نے منع فرمایا ہے،اس میں بیوی کی رضا مندی یا عدم رضامندی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔اگر بیوی رضا مند ہو تو تب بھی دبر میں جماع کرنا حرام ہے،بیوی کی رضا مندی کی صورت میں میاں اور بیوی دونوں گنہگار ہوں گے۔نبی کریم نے فرمایا:
«مَلْعُونٌ مَنْ أَتَی امْرَأَتَہُ فِی دُبُرِہَا » سنن أبی داود کتاب النکاح باب فی جامع النکاح حدیث نمبر 2162
جو شخص اپنی بیوی سے دبر میں جماع کرے وہ ملعون (لعنت زدہ) ہے۔
جماع کی حدود یہ ہیں کہ حالت حیض اور مقعد میں جماع کرنا منع ہے ،اس کے علاوہ آپ کسی بھی طریقے سے اپنی بیوی سے استمتاع کر سکتے ہیَں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فتوی کمیٹی
محدث فتوی