السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
بعض لوگ دارالحرب میں سود کا جواز بیان کرتے ہیں ۔الخ کیا یہ قول صحیح ہے۔؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
فقہ حنفیہ کی ایک روایت ہے۔کہ دارالحرب میں سود لینا جائز ہے۔مگر یہ روایت کوئی صحیح نہیں ہاں دارالحرب کے احکام دارالاسلام سے مختلف نہیں۔
)فتاویٰ ثنائیہ جلد 2 صفحہ 143(
فتاویٰ علمائے حدیث
جلد 14 ص 51
محدث فتویٰ