فهرس الكتاب

الصفحة 734 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

سر منڈانا منع ہے اور خارجیوں سے مشابہت ہے حدیث شریف کی وضاحت فرمادیں {قَالَ رَسُوْلُ اﷲِصلی اللہ علیہ وسلم سِیْمَاہُمْ (ای الْخَوَارِج) اَلتَّحْلِیْقُ} 1 ان کی علامت (یعنی خارجیوں کی) سر منڈانا ہے ۔

1بخاری

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

سر منڈانا درست ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا {اِحْلِقُوْہُ کُلَّہُ أَوِ اتْرُکُوْہُ کُلَّہُ} 2 [سارے سر کا حلق کرو یا سارے کو چھوڑ دو] نیز قرآن مجید میں ہے: {لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَآئَ اﷲُ اٰمِنِیْنَ مُحَلِّقِیْنَ رُئُ وْسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَ لاَ تَخَافُوْنَ} 3 الآیۃ [تم لوگ مسجد حرام میں ضرور داخل ہو گے ان شاء اللہ اس حال میں کہ تم سر منڈائے اور بال ترشوائے ہوئے ہو گے کسی کا خوف تم کو نہ ہو گا] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کھولنے پر سر منڈایا تھا نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمادی {اَللّٰہُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِیْنَ قَالُوْا وَالْمُقَصِّرِیْنَ} 4 الحدیث [اے اللہ رحمت کر سر منڈانے والوں پر صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عرض کی اور بال ترشوانے والوں پر] ہاں افضل وسنت یہی ہے کہ وفرہ ، جمہ اورلمہ بال رکھے جائیں کیونکہ احرام کھولنے کی حالت کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی یہی کیفیت احادیث میں بیان ہوئی ہے تو افضل یہی ہے کہ احرام کھولتے وقت سر منڈایا جائے اور آگے پیچھے وفرہ ، جمہ اور لمہ بال رکھے جائیں رہی حدیث ''سِیْمَاہُمْ اَلتَّحْلِیْقُ'' تو اس کا مقصود یہ ہے کہ جو خارجی ہے وہ سر منڈاتا ہے یہ مقصود نہیں کہ جو سر منڈاتا ہے وہ خارجی ہے ۔

2 [ابوداود المجلد الثانی کتاب الترجل باب فی الصبی لہ ذوابۃ] 3 [الفتح ۲۷ پ۲۶] 4 [بخاری شریف کتاب الحج باب الحلق والتقصیر عند الحلال]

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 ص 524

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت