فهرس الكتاب

الصفحة 1669 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

زید نے اپنی ضرورت کو ایک ہزار روپیہ بکر سے لیا جس کے عوض میں اپنا دو ہزار روپے کا مکان لکھ دیا۔اور اقرار نامہ بکر سے علیحدہ لکھ لیا۔اگر تین سال میں یہ مبلغ تم کو واپس کر دوں۔تو اس مبلغ پر اپنا گھرمیرے نام واپس کر دینا پھر زید نے بکر کو اسی مکان کاکرایہ نامہ بھی لکھ دیا کہ مکان مذکورہ کا کرایہ میں سے دس روپے دیا کروں گا۔تین سال تک ایک روپیہ فی سینکڑہ کا حساب دل میں ہے۔کیا بکر کا ایسا سلوک ازروئے قرآن وحدیث حلال ہے یا حرام؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

بکر کی نیت تو یہ ہے۔کہ سود سے بچے اور فائدہ بھی اُٹھائے مگر صورت بیع کی اس لئے بیع کے تمام حکم اس پر مرتب ہوں گے۔یعنی جائز ہے۔واللہ اعلم

(فتاوی ثنائیہ جلد 2 صفحہ 442)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 89

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت