فهرس الكتاب

الصفحة 1799 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ڈاکخانہ کے کیش سرٹفکیٹ کا سود دیا گیا۔ اسے کس طرح خرچ کریں۔ ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جن کے نزدیک ڈاک خانہ کا منافع جائز ہو وہ اسے کھانا جائز جانتے ہیں۔ مفتی دیو بند اور جمعۃ العلماء جائز کہتے ہیں۔ جن کے نزدیک حرام ہے وہ اس کا کھانا بھی جائز نہیں جانتے۔ واللہ اعلم۔ (9جون 39ء(

شرفیہ

ڈاک خانہ اور سرکاری بنک میں روپیہ جمع کرنا اور اس کا سود لینا جائز نہیں۔ اس لئے کہ وہ اس ر وپیہ کو سود پر چلاتے ہیں۔ جو قطعی حرام ہے۔ اورفرمان باری تعالیٰ ہے۔

وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ) الایۃ۔ اوراعانت علی الاثم ہے۔ لہذاجائز نہیں۔ دوم۔ بالفرض اگر وہ سود کا معاملہ وکاروبار نہ بھی کریں تو بھی ان کا سود دینا اور جمع کرنے والے کا لینا دونوں حرام ہیں۔ (ابو سعید شرف الدین دہلوی)

تطبیق

بعض نے اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ مگر سود بہرحال سود ہی ہے۔ جس کا کھانا ہر حال میں حرام ہے۔ جو جواز کا فتویٰ دیتے ہیں وہ بھی یہ کہتے ہیں۔ کہ خود استعمال نہ کرے۔ بلکہ نو مسلمین کے تالیف قلوب پر یا کسی سودی قرض خواہ کے سود پر صرف کرے۔ (اہلحدیث سوہدرہ 24 ستمبر 52ء(

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 117

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت