فهرس الكتاب

الصفحة 1788 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

جو اشیاء خاص کر بتوں پر چڑھائی جاتی ہیں اور دوکاندار کو معلوم ہیں کہ یہ اشیاء بت پر چڑھائی جاہیں گی اس کافروخت کرنا شرع میں کیسا ہے۔اور فروخت کرنے والا کس گناہ کا مرتکب ہے۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اگر وہ ایسی چیز ہے جو سوائے چڑھاوے کے کھانے پینے میں بھی آسکتی ہے جیسے حلوہ وغیرہ تو اس چیز کا بینا جائز ہے چاہے چڑھاوے والا اس کو کسی بت پرچڑھاوےاوراگر ایسی ہے کہ خاص شرک میں کام آتی ہے تو اس کا فروخت کرناجائز نہیں لَا تَعَاوَنُوا۟ عَلَی ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَ‌ٰنِ )اہلحدیث امرتسر ص13 16 دسمبر 1932ء) (فتاوی ثنائیہ جلد 2 ص 407(

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 207

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت