فهرس الكتاب

الصفحة 1816 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

(از حضرت العلام مولاناابو القاسم صاحب بنارسی )

یہ بات تو یہ یہی ہے کہ قرآن مجید میں جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، ان میں سود کی حرمت بھی منصوص ہے ، وَأَحَلَّ ٱللَّہُ ٱلْبَیْعَ وَحَرَّ‌مَ ٱلرِّ‌بَو‌ا۟ لیکن سود کی حرمت علیحدہ بیان کرنے میں اور اشیاء محرمات سے کیا حکمت وارز ہے اور کیوں سود کے بیان میں حالت اضطراری قرآن مجید میں مذکور نہیں اور خیز پر وغیرہ میں اضطرار کا ذکر موجود ہے وجہ صاف ہے کہ جو اشیاء محرمات حالت اضطرار میں قدر ے قلیل بطور قوت لایموت میں روارکھی گئی ہے ، سود ہر گز ان میں نہیں ہے، لہذا کیسی ہی اضطراری ہو سود کسی حالت میں جائز نہیں طرہ یہ کہ اشیائے محرمات جو بحالت اضطراری جائز رکھی گئی ہیں اس کا مقدار نہایت قلیل ہے تو سود جب تجارت اضطراری جائز ہوگا تو اس کا مقدار بھی قلیل ہو گا حالانکہ یہ عرفا ًممکن نہیں اور اول تو جوازی تجارت اضطرار اور حیلے مشکل ہے قرآن مجید میں ایک صورت اضطرار کی ربا میں البتہ یوں مذکورہے وان کان ذوعسرةتو اس کے بارے میں فرمایا!فنظرة الی میسرة اس میں بھی اجازت نہیں بخشی فافہم. (۶مئی۱۹۳۱ء؁)

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 430

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت